بیجنگ ،3؍ فروری (ایس او نیوز ؍ایجنسی) چین میں آج جو کورونا وائرس کی وباءپھیل گئی ہے اسے اللہ کا عذاب تصور کیا جارہا ہے کیونکہ چین میں مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔
ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 30 ؍ لاکھ مسلم مردوخواتین کو حراستی کیمپ میں قید رکھا گیا ہے۔ خواتین کا جنسی استحصال کیا جارہا ہے۔ مسلم لڑکیوں کو غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ جبراً شادی کے لئے مجبور کیا رجا رہا ہے۔ بے شمار مساجد شہید کردیئے گئے اور سینکڑوں مساجد ہوٹلوں میں تبدیل کردیئے گئے ۔ نماز پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ چین کے مسلمانوں کو روزہ رکھنے ،ذکوۃ ٰ دینے ، داڑھی رکھنے، خواتین کیلئے حجاب اختیار کرنے پر امتناع عائد کیا گیا ہے۔ حلال کھانے کی اجازت نہیں ، مسلمانوں کو بد جانور کا گوشت کھانے اور شراب پینے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے۔
ان وحشت ناک مظالم کے جواب میں آج چین کے دس شہروں میں کورونا وائرس کی شکل میں اللہ کا عذاب نازل ہورہا ہے۔30؍ لاکھ مسلمانوں کو محروس رکھنے کی پاداش میں آج لاکھوں چینی عوام اس مہلک مرض سے متاثر ہورہے ہیں۔ کئی شہر کھنڈر میں تبدیل ہورہے ہیں۔
اسی پس منظر میں اللہ تعالیٰ سورہ الکہف میں ارشاد فرماتا ہے کہ ’جن لوگوں نے گناہوں اور مظالم کا ارتکاب کیا، ان کی بستیاں تباہ کردی گئیں اور آج وہ عبرت کا مقام بن گئے ہیں‘۔ چین میں آج 3؍کروڑ 50؍ لاکھ افراد کے سفر پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ 12؍ ہزار کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔ 300؍ زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ چین کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ قرآن ترجمہ اپنی مرضی سے کریں گے ۔ اس جسارت کا انجام وہ دیکھ رہے ہیں۔